(46) نبی کریم کو ان کی دعوت توحید سے روکنے کی جب تمام شیطانی چالیں ناکام ہوگئیں تو کافروں نے آپ کو پریشان کرنا شروع کردیا، تاکہ آپ تنگ آکر مکہ سے باہر چلے جائیں، اسی کی طرف اس آیت کریمہ میں اشارہ ہے کہ اگر مشرکین آپ کو نکال دیتے تو آپ کے بعد وہ لوگ کچھ ہی دن زمین پر زندہ رہتے، اس لیے کہ اللہ کی سنت یہی ہے کہ جب بھی کسی قوم نے اپنے نبی کو شہر بدر کیا، اللہ نے انہیں ہلاک کردیا، یا جب بھی اللہ نے کسی قوم کو ہلاک کرنا چاہا تو پہلے اپنے نبی کو وہاں سے نکل جانے کا حکم دے دیا۔ لیکن اللہ نے ان کے دلوں سے یہ بات نکال دی، چنانچہ انہوں نے آپ کو مکہ سے نکال دینے کا ارادہ ترک کردیا، اس کے بعد آپ خود ہی اللہ کے حکم کے مطابق ہجرت کر کے مدینہ چلے گئے۔