(11) حافظ ابن کثیر نے اس آیت کی تفسیر یوں بیان کی ہے کہ اس رب کی قسم جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے، مشرق و مغرب کو بنایا ہے اور شمس و قمر اور کواکب کو اس طرح مسخر کیا ہے کہ وہ روزانہ ایک مشرق سے نکلتے ہیں اور ایک مغرب میں ڈوبتے ہیں (یعنی ہر سال تین سو ساٹھ مشرقوں سے طلوع ہوتے ہیں اور تین سو ساٹھ مغربوں میں ڈوبتے ہیں) بات ویسی نہیں ہے جیسی تم گمان کرتے ہو کہب عث بعد الموت، قیامت، حساب اور جزا و سزا نہیں ہے، بلکہ یہ تمام باتیں سچ اور یقینی ہیں اور اس میں حیرت کی کون سی بات ہے، وہ تو اللہ کی عظیم قدرت کا مشاہدہ وقع قیامت سے بڑی چیز میں کر رہے ہیں، یعنی آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور ان میں پائی جانے والی تمام مخلوقات و موجودات کو ایک مخصوص نظام کا پابند بنانا۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ مشرقوں اور مغربوں کے رب کی قسم ! ہم یقیناً اس پر قادر ہیں کہ روز قیامت انسانوں کو ان کے موجودہ جسم سے اچھا جسم دے کر پیدا کریں اور ہم ایسا کرنے سے عاجز نہیں ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے سورۃ القیامہ آیات (3/4) میں فرمایا ہے: (ایحسب الانسان الن نجمع عظامہ) بلیقادرین علی ان نسوی بنانہ) " کیا انسان یہ خیال کرتا ہے کہ ہم اس کی ہڈیاں جمع نہیں کریں گے ہاں ضرور کریں گے ہم تو قادر ہیں کہ ہم اس کی پور پور تک درست کردیں"