2۔ آخرت پر ایمان لانا ہی تمام بھلائیوں کی جڑ ہے، اور اس کا انکار تمام شر و فساد کا پیش خیمہ ہے۔ جو شخص آخرت کا منکر ہوتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی برائیوں کو اس کی نگاہ میں خوبصورت بنا دیتا ہے۔ اس کے دل سے جزا و سزا کا خوف نکل جاتا ہے، اور وہ شہوتوں اور گناہوں میں ڈوب جاتا ہے پھر تو اس کی حالت ایسی ہوجاتی ہے کہ وہ انہی معاصی میں غوطہ زن رہتا ہے، اور اس کے اندر خیر و شر کی تمیز باقی نہیں رہتی۔
آیت 5 میں ایسے لوگوں کا انجام یہ بتایا گیا کہ اللہ تعالیٰ انہیں دنیا میں بدترین عذاب میں مبتلا کرے گا، جیسا کہ کفار مکہ کے ساتھ ہوا کہ جنگ بدر میں قتل کیے گئے اور جو باقی رہ گئے قید کرلیے گئے، اور آخرت میں سب لوگوں سے زیادہ خسارہ اٹھانے والے ہوں گے۔ یعنی انہیں آگ کا نہایت ہی سخت عذاب دیا جائے گا۔