(11) قرآن کریم اپنے معہود طریقے کے مطاق جھٹلانے والے کافروں کا انجام بیان کرنے کے بعد، اب اللہ سے ڈرنے والوں کا ذکر کر رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: جو لوگ اللہ کی گرفت سے ڈرتے ہوئے، فرائض کو ادا کرتے ہیں اور گناہوں سے اجتناب کرتے ہیں وہ گھنے درختوں کے سائے میں ہوں گے اور ان درختوں کے درمیان سے نہریں جاری ہوں گی اور وہ جن پھلوں کی خواہش کریں گے اپنے سامنے پائیں گے اور ان کی غایت تکریم کے لئے اللہ تعالیٰ ان سے کہے گا کہ تم لوگ دنیا میں کئے گئے اپنے اعمال صالحہ کے بدلے جو چاہو کھاؤ اور پیو اور راحت و آسائش کی زندگی گذارو ہم اپنے رب سے ڈرنے والوں اور ایمان و عمل صالح والی زندگی گذارنے والوں کو ایسا ہی اچھا بدلہ دیتے ہیں۔
لیکن اس دن ہلاکت و بربادی ہوگی ان کافروں کے لئے جو اللہ، اس کے رسول، اس کی کتاب، اور روز آخرت کو جھٹلاتے ہیں۔