(3) اس آیت کریمہ میں قام اللیل اور اس میں قرآن کریم کی پرسکون ادناز میں قرأت کا فائدہ بتایا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فرمایا کہ آپ رات کے وقت نماز پڑھئے اور اس میں قرآن کی تلاوت کیجیے اس لئے کہ رات کے وقت ماحول پرسکون ہوتا ہے، مخلوق سوئی ہوتی ہے اور ساری آوازیں خاموش ہوتی ہیں، اس وقت کان، آنکھ، دل اور زبان کے درمیان پورا توافق ہوتا ہے۔ اس لئے ایسے وقت میں جب آپ نماز کے لئے اپنے رب کے سامنے کھڑے ہو کر قرآن کی تلاوت کیجیے گا تو آپ کی قرأت زیادہ حضور قلب کے ساتھ ہوگی اور آپ کے دل و دماغ پر اس کا گہرا اثر پڑے گا۔
حافظ سیوطی نے جاحظ سے اس آیت کا مفہوم یہ نقل کیا ہے کہ " ناشءۃ اللیل" سے مراد وہ معاین و مطالب ہیں جو تہد کی نماز میں قرآن کی تلاوت سے دل پر منکشف ہوتے ہیں، وہ مطالب و معانی زیادہصحیح ہوتے ہیں اور ان کا اثر آدمی پر زیادہ ہواضح ہوتا ہے۔
آیت (7) میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لئے وجوب تہد کا سبب بیان کیا گیا ہے کہ دن میں آپ اسلام اور مسلمانوں کی خاطر مختلف کاموں میں مغشول رہتے ہیں، اس لئے آپ کو رات کیوقت نماز پڑھنے اور قرآن کریم کی تلاوت کا حکم دیا گیا ہے۔