فهرس الكتاب

الصفحة 3420 من 6343

(31) کفار مکہ انتہائے کبر و عناد میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا مذاق اڑاتے ہوئے کہتے تھے کہ جس عذاب کا تم بار بار ذکر کرتے ہو، وہ ہم پر نازل کیوں نہیں ہوجاتا؟ تو اللہ نے ان کا جواب دیا کہ ان کی سرکشی تو اتنی بڑھ چکی ہے کہ واقعی عذاب کو نازل ہوجانا ہی چاہئے تھا، لیکن چونکہ اس کا ایک وقت مقرر ہے، اس لئے وہ اپنے متعین وقت پر ہی نازل ہوگا اور وہ ایسا چانک آئے گا کہ اس کے آنے سے پہلے انہیں اس کا احساس بھی نہیں ہوگا۔

اے میرے نبی ! یہ کفار کتنے حقیقت نا آشنا ہیں کہ عذاب کی جلدی مچا رہے ہیں، حالانکہ وہ تو انتہائی قریب ہونے کی وجہ سے جیسے انہیں ہر جانب سے اپنے گھیرے میں لئے ہوئے ہے، جب وہ دن آجائے گا اور جب وہ گھڑی آنپہنچے گی تو عذاب جہنم انہیں اوپر اور نیچے سے ڈھانک لے گا اور ان سے کہا جائے گا جیسا تم نے کیا تھا ویسا بھرو، اور اپنے کرتوتوں کا مزا چکھو۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت