(10) اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے اور رسول دخلیل ابراہیم (علیہ السلام) کا حال بیان کر کے اہل قریش کو دعوت فکر دی ہے کہ تم لوگ جس ابراہیم کی محبت کا دم بھرت یہو، انہوں نے تو اپنے باپ دادوں کی تقلید سے اعلان برأت کردیا تھا اور کہہ دیا تھا کہ میں محض تمہاری تقلید میں تمہارے جھوٹے معبودوں کی عبادت نہیں کروں گا۔ کائنات میں جو عقلی دلائل و براہین موجود ہیں وہ سب اس بات کی طرف راہنمائی کرتے ہیں کہ میں اس ذات واحد کی پرستش کروں جس نے مجھے پیدا کیا ہے اور مجھے یقین ہے کہ میرا رب مجھے ضائع نہیں کرے گا، وہ اپنے صحیح دین کی طرف میری رہنمائی کرے گا، اپنی بندگی کی توفیق دے گا اور راہ حق پر ثبات عطا فرمائے گا، اس لئے کہ جو اس پر اعتماد بھروسہ کرتا ہے اسے وہ بالیقین اپنی راہ پر لگا دیتا ہے۔