فهرس الكتاب

الصفحة 4639 من 6343

(7) یہاں بیعت سے مراد بیعت رضوان ہے یعنی وہ بیعت جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: (لقد رضی اللہ عن المومنین اذیباعونک تحت الشجرۃ) " اللہ مومنوں سے راضی ہوگیا جب وہ آپ کے ہاتھوں پر درخت کے نیچے بیعت کر رہے تھے" صحابہ کرام نے حدیبیہ کے مقام پر ایک درخت کے نیچے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہاتھ پر بیعت کی تھی کہ وہ اہل مکہ سے جنگ کریں گے اور کسی بھی حال میں میدان چھوڑ کر راہ فرار اختیار نہیں کریں گے اس بیعت کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اگرچہ بظاہر مسلمان یہ بیعت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہاتھ پر کر رہے ہیں، لیکن درحقیقت یہ معاہدہ اور بیعت اللہ کے ساتھ ہے، بیعت کرتے وقت اللہ کا ہاتھ کے اوپر تھا، انہوں نے جنت کے بدلے اللہ سے اپنی جانوں کا سودا کرلیا ہے، اس لئے اب جو کوئی نقض عہد کرے گا اور کافروں سے جنگ نہیں کرے گا، تو اس کا نقصان اسے ہی پہنچے گا، یعنی اس کا وبال اور اس کی سزا سے مل کر رہے گی، اور جو اللہ سے کئے گئے معاہدہ کی پابندی کرے گا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ مل کر کافروں سے جنگ کرے گا تو اللہ تعالیٰ اسے اس کا اجر عظیم عطا فرمائے گا، یعنی اسے جنت میں داخل کر دے گا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت