(5) مشرکین مکہ سمجھتے تھے کہ مرنے کے بعد آدمی مٹی میں گل سڑ کر ختم ہوجاتا ہے اس کے بعد کوئی دوسری زندگی نہیں ہے، اسی کی تردید کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے شفق، رات اور چاند کی قسم کھا کر حضرت انسان کو یہ باور کرانا چاہتا ہے کہ موت کے بعدتم ہمیشہ کے لئے ختم نہیں ہوجاؤ گے بلکہ بلاشبہ تم کئی احوال و اطوار سے گذررو گے، موت کے بعدتم دوبارہ زندہ کئے جاؤ گے، پھر میدان محشر میں اکٹھا کئے جاؤ گے پھر تمہارا حساب ہوگا اور پھر تم اپنے نیک و بد اعمال کے مطابق بدلہ دیئے جاؤ گے، اگر تم نے دنیا کی زندگی میں نیک اعمال کئے ہوں گیت و جنت اور اس کی نعمتوں سے نوازے جاؤ گے اور اگر کفر و شرک اور دیگر معاصی سے تمہارے نامہ ہائے اعمال بھرے ہوں گے تو تمہارا ٹھکانا جہنم ہوگا۔