فهرس الكتاب

الصفحة 2166 من 6343

(5) غار میں پناہ لینے والے کچھ نوجوان مسلمان تھے اور ان کے ساتھ ان کا ایک کتا تھا، ان کے ملک کا بادشاہ بت پرست تھا، اور لوگوں کو بت پرستی پر مجبور کرتا تھا اور جو لوگ اس کی بات نہیں مانتے تھے انہیں سخت سزا دیتا تھا، ان نوجوانوں نے اپنے دین و ایمان کی حفاظت کی خاطر اپنا شہر چھوڑ دیا اور ایک غار میں پناہ گزیں ہوگئے جو مقام ایکہ کے قریب رقیم نامی وادی میں واقع تھا، ان نوجوانوں کو جب ذرا سکون ملا تو اپنے رب سے دعا کی کہ اے ہمارے رب ! ہم نے جو شرک اور مشرکین سے کنارہ کشی اختیار کی ہے تو اپنی رحمت کو ہم پر سایہ فگن کردے، اور اپنے دین کی خاطر اپنا گھر بار چھوڑا ہے تو ہر گام پر ہماری رہنمائی فرما اور کافروں سے ہمیں نجات دے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرما لی ان کے کانوں پر ایک پردہ ڈال دیا جس کے سبب غار سے باہر کی آواز ان تک آنی بند ہوگئی، اور اللہ نے انہیں ایسا سکون عطا فرمایا اور وہ دشمنوں سے اس طرح امن میں آگئے کہ تین سو نو سال تک سوئے رہے۔ اس طویل مدت کے بعد اللہ تعالیٰ نے انہیں نیند سے بیدار کیا تاکہ وہ اس بات کا مشاہدہ کرے کہ ان کی نیند کی مدت کا جن دو گروہوں نے اندازہ لگایا تھا ان میں سے کس کا اندازہ حقیقت سے زیادہ قریب تھا، اور تاکہ اس کے دیگر بندے اس طویل مدت تک ان نوجوانوں کے بغیر طعام و شراب کے رہنے کے بارے میں غور وفکر کر کے اللہ کی وحدانیت اور اس کی قدرت مطلقہ پر ایمان لائیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت