فهرس الكتاب

الصفحة 2321 من 6343

(34) نبی کریم سے کہا جارہا ہے کہ جس طرح آپ نے مریم، عیسی، ابراہیم اور موسیٰ علیہم السلام سے متعلق قرآنی آیتوں کی تلاوت کر کے لوگوں کو سنایا ہے، اب اسماعیل بن ابراہیم سے متعلق آیتوں کی بھی تلاوت کیجیے، اس لیے کہ وہ وعدہ کے بہت ہی سچے انسان تھے۔ جب بھی کسی انسان سے کوئی وعدہ کرتے تو بہرحال اسے پورا کرتے، اور سب سے بڑا اور خطرناک وعدہ اپنی جان کی قربانی سے متعلق اپنے باپ ابراہیم سے کیا اور کہا: (ستجدنی انشاء اللہ من الصابرین) آپ مجھے انشاء اللہ صبر کرنے والا پائیں گے۔ (الصافات: 102) تو اس وعدے کو ایسی نیاز مندی کے ساتھ پورا کیا کہ رہتی دنیا تک کے لیے سپردگی اور فدائیت کا اولین نمونہ بن گئے، اور وہ موسیٰ کے مانند رسول اور نبی تھے اور اپنے اہل و عیال کو نماز و زکوۃ اور دیگر نیک کاموں کا حکم دیتے تھے، تاکہ دوسروں کے لیے اچھی مثال بنیں (اور اس لیے بھی کہ ان کے اہل و عیال دوسروں کی بہ نسبت دینی خیر خواہی کے زیادہ حقدار تھے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم سے فرمایا ہے:(وانذر عشیرتک الاقربین) آپ اپنے زیادہ قریبی رشتہ داروں کو ڈرایئے۔ (الشعرا: 214) اور فرمایا: (وامر اھلک بالصلوۃ) آپ اپنے اہل کو نماز کا حکم دیجیے۔ (طہ: 132) اور فرمایا: (قوا انفسکم واھلیکم نارا) (مومنو) اپنے آپ کو اور اپنے بال بچوں کو آگ سے بچاؤ (التحریم: 6) اور وہ اپنے رب کی نگاہ میں بڑے پاکباز نیک سیرت اور صالح انسان تھے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت