(13) امام شوکانی نے مفسرین کا یہ قول نقل کیا ہے کہ آیت (24) میں " آثما" سے مراد عتبہ بن ربیعہ اور " کفورا" سے مراد ولید بن مغیرہ ہے ان دونوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا تھا کہ تم لوگوں کو دعوت اسلام دینا بند کر دو ہم تمہیں مالا مال کردیں گے اور اپنی خوبصورت ترین عورتوں سے تمہاری شادی کردیں گے تو اللہ تعالیٰ نے (انا نحن نزلنا علیک القرء ان تنزیلا) اور اس کے بعد کی آیتیں نازل فرمائیں۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس قرآن کو ہم نے آپ پر نازل کیا ہے، اسے آپ نے نہیں کھڑا ہے جیسا کہ مشرکین آپ پر اتہام دھرتے ہیں، اس لئے آپ اپنے رب کی پیغامبری کی ذمہ داریوں کو قبول کیجیے اور اسے بے کم و کاست لوگوں تک پہنچائیے، اور مشرکین قریش میں سے ابوجہل اور تعبہ بن ربیعہ جیسے گناہگاروں اور ولید بن مغیرہ جیسے نافرمانوں اور ناشکروں کی بات نہ مانئے، اور اپنی دعوت کو لے کر آگے بڑھتے رہے اور اپنے رب کے لئے نماز پڑھئے، تسبیح و ذکر میں مشغول رہئے اور ہاتھ پھیلا کر اس کے سامنے گریہ و زاری کیجیے اور راتوں میں اٹھ کر تہجد کی نماز پڑھئے اور دیر تک اپنے رب کی پاکی بیان کرت یر ہے۔
نماز اللہ کی مدد حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہے، نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جب کوئی پریشانی لاحق ہوتی یا کوئی اہم معاملہ پیش آتا تو آپ فوراً نماز پڑھنے لگتے سورۃ البقرہ آیت (45) میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: (3 استعینوا بالصبروا الصلاۃ) " اور صبر اور نماز کے ذریعے اللہ کی مدد طلب کرو" اور سورۃ ق آیت (40) میں فرمایا ہے: (ومن اللیل فسبحنہ و اذبار السجود) " اور رات کے کچھ حصے میں اللہ کی تسبیح کیجیے اور نمازوں کے بعد بھی" رات میں اللہ کی تسبیح کرنے سے مراد تہجد کی نماز ہیے۔