38۔ ہود (علیہ السلام) کے بعد، اب صالح (علیہ السلام) اور ان کی قوم ثمود کا واقعہ بیان کیا جا رہا ہے، اس لیے کہ اس میں بھی قریش کے لیے درس عبرت ہے۔ یہ واقعہ بھی سورۃ الاعراف میں گذر چکا ہے۔
قوم ثمود کے لوگ وادی قری اور ملک شام کے درمیان حجر نامی جگہ میں سکونت پذیر تھے، جواب مدائن صالح کے نام سے جانا جاتا ہے، ان کا زمانہ قوم عاد کے سو سال بعد، اور ابراہیم خلیل اللہ علیہ وسلم کے قبل کا ہے، صالح (علیہ السلام) دو سو اسی سال (280) زندہ رہے، اور ایک طویل مدت تک قوم ثمود کو ایمان کی دعوت دیتے رہے، لیکن وہ لوگ اپنے کفر و سرکشی پر اڑے رہے، تو اللہ نے انہیں ہلاک کردیا۔
اسی واقعہ کو یہاں مجمل طور پر بیان کیا گیا ہے، کہ قوم ثمود نے صالح (علیہ السلام) کی تکذیب کر کے گویا تمام انبیاء کی تکذیب کردی، اس لیے کہ سب کی دعوت ایک ہی تھی، ان کے بھائی صالح نے ان سے کہا کہ تمہیں اللہ کے عذاب کا ڈر نہیں لگتا ہے کہ اس کے ساتھ غیروں کو شریک بناتے ہو، اور دیگر معاصی کا ارتکاب کرتے ہو مجھے اللہ نے تمہارے پاس اپنا رسول بنا کر بھیجا ہے، تاکہ تم تک اس کا دین پہنچاؤں، اور میں اس بارے میں پورے طور پر امانت دار ہوں، اپنی طرف سے کچھ گھٹاتا بڑھاتا نہیں ہوں، اس لیے اللہ سے ڈرو، اور میری بات مانو، اور دیکھو، میں تبیلغ و دعوت کے کام کا تم سے کوئی معاوضہ نہیں مانگتا ہوں، مجھے اپنے اجر و ثواب کی امید رب العالمین سے ہے، اس لیے کہ اسی نے مجھے رسول بنا کر بھیجا ہے۔