(7) لیکن اکثر و بیشتر لوگوں کی نگاہوں میں دنیا ہی سب کچھ ہوتی ہے اور آخرت سے یکسر غافل ہوتے ہیں، اسی لئے اللہ تعالیٰ جب انہیں مال و جائیداد دے کر آزماتا ہے، تو بجائے اس کے کہ وہ اپنے قول و عمل کے ذریعہ رب العالمین کاشکر ادا کریں اور اس کے لئے تواضع اور انکساری میں جھک جائیں، خوشی میں آپے سے باہر نکل جاتے ہیں اور اترانے لگتے ہیں اور لوگوں سے کہنے لگتے ہیں کہ ہم اللہ کے نزدیک باعزت ہیں جبھی تو اس نے ہمیں ان نعمتوں سے نوازا ہے انہیں یہ بات سوچنے کی توفیق ہی نہیں ہوتی کہ رب العالمین انہیں آزما رہا ہے۔
اور اگر اللہ تعالیٰ انہیں بطور آزمائش فقر و فاقہ سے دوچار کردیتا ہے، تو فوراً شکوہ کرنے لگتے ہیں کہ اللہ نے محتاجی میں مبتلا کر کے ہمیں ذلیل و رسوا کردیا۔
دولت و مالداری اور فقر و محتاجی دونوں ہی حالتوں میں ان کی سوچ مریض اور ان کی فکر کج ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں دولت دی تو اس لئے کہ وہ اس کے شکر گزار بنیں اور محتاجی میں مبتلا کیا تو اس لئے کہ وہ اللہ کی اس تقدیر پر راضی رہیں، صبر کریں، اور تنگدستی کے باوجود حرام ذرائع سے روزی حاصل کرنے کی نہ سوچیں۔