(10) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا گیا ہے کہ وہ مشرکین قریش کو یہ بتا دیں کہ مجھے تو اس بات کا حکم دیا گیا ہے کہ میں صرف اللہ کی عبادت کروں اور اس کے سوا کسی کی طرف التفات نہ کروں اور مجھے اس بات کا بھی حکم دیا گیا ہے کہ اخلاص و عمل اور اطاعت و بندگی میں تمام مسلمانوں سے آگے رہوں۔ چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پہلے آدمی تھے جس نے اپنے آباء و اجداد کے دین کی مخالفت کی اور لوگوں کو توحید کی طرف بلایا۔
اور مجھے کفار قریش کو یہ بھی کہنے کا حکم دیا گیا ہے کہ اگر میں نے اپ نے رب کی نافرمانی کی اور کافروں کی بات مان کر غیر اللہ کی عبادت کی، تو ڈرتا ہوں کہ قیامت کے دن پکڑ نہ لیا جاؤں اور عذاب میں نہ مبتلا کردیا جاؤں۔
شوکانی نے ابوحمزہ یمانی اور ابن المسیب کا قول نقل کیا ہے کہ یہ آیت سورۃ الفتح کی آیت (2) (لیغفرلک اللہ ما تقدم من ذنبک ماتاخر) کے ذریعہ منسوخ ہوگئی ہے، جس میں اللہ نے آپ کو خبر دمی ہے کہ ان کے اگلے اور پچھلے تمام گناہ معاف کردیئے گئے ہیں۔
اور مجھے یہ بات بھی بتا دینے کا حکم دیا گیا ہے کہ میں صرف اللہ کی ہی عبادت کرتا ہوں، میری عبادت میں شرک کا شائبہ تک نہیں ہوتا ہے اے مشرکین مکہ ! اگر تم میری دعوت قبول نہیں کرتے ہو اور توحید کا انکار کرتے ہو تو اس کے سوا غیروں کے سامنے سر ٹیکتے رہو، تمہیں عنقریب اپنا انجام معلوم ہوجائے گا۔
اور مجھے یہ بھی بتا دینے کو کہا گیا ہے کہ اصل گھاٹا پانے والے وہ لوگ ہیں، جو قیامت کے دن کفر وضلالت کی وجہ سے خود بھی جہنم کا ایندھن بنیں گے اور اپنے اہل و عیال کو گمراہ کرنے کی وجہ سے انہیں بھ اپنے ساتھ اس میں لے جائیں گے اور جنت کی نعمتوں سے ہمیشہ کے لئے محروم کردیئے جائیں گے۔ درحقیقت یہی وہ خسارہ ہے جس سے بڑھ کر اور کوئی خسارہ نہیں، کہ گوشت اور ہڈی سے بنے انسانوں کو جہنم کا ایندھن بنا دیا جائے۔