فهرس الكتاب

الصفحة 3123 من 6343

44۔ لوط (علیہ السلام) کی اس تقریر کا ان لوگوں پر کوئی مثبت اثر نہیں ہوا، اور جواب میں کہا کہ اگر تم ہمیں برا کہنے سے باز نہیں آؤ گے، تو ہم تمہیں اپنی بستی سے نکال دیں گے، اس لیے کہ ہمارے اور تمہارے مزاج میں مطابقت نہیں ہے۔ لوط (علیہ السلام) نے جواب دیا کہ میں تمہاری اس بد فعلی کو غایت درجہ مبغوض جانتا ہوں، اس لیے میں خود ہی تمہاری بستی چھوڑ دینا چاہتا ہوں، کیونکہ تمہاری اس مجرمانی حرکت کا نتیجہ ہلاکت و بربادی کے سوا کچھ نہیں ہوگا، اور چونکہ انہیں یقین تھا کہ اللہ اس قوم پر اپنا عذاب ضرور نازل کرے گا، اسی لیے دعا کی کہ میرے رب ! مجھے اور میرے گھر والوں کو ان کے برے کرتوتوں کے انجام سے نجات دے دے۔ چنانچہ اللہ نے ان کی دعا قبول فرما لی، اور انہیں ان کے گھروالوں اور دیگر مسلمانوں کو اس عذاب سے بچالیا، جس کے ذریعہ وہ لوگ ہلاک کر دئیے گئے، البتہ لوط (علیہ السلام) کی بوڑھی بیوی جو کافروں کے فعل بد کی تائید کرتی تھی، اور کافر تھی، وہ بھی دیگر کافروں کے ساتھ ہلاک کردی گئی۔ اللہ تعالیٰ نے پہلے تو ان بستیوں کو الٹ دیا، پھر ان پر پتھروں کی بارش کردی۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت