فهرس الكتاب

الصفحة 2762 من 6343

20۔ نبی کریم کی بعثت اور قرآن کریم کے نزول کے بعد، اہل قریش کا کفر پر اصرار قابل حیرت امر تھا، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ان کی زجر و توبیخ کی ہے اور کہا ہے کہ انہوں نے قرآن میں صدق دل سے غور و فکر کیوں نہیں کیا، تاکہ یہ بات ان پر آشکارا ہوجاتی، یہ اللہ کی سچی کتاب ہے اور جن پر نازل ہوئی ہے وہ اس کے سچے رسول ہیں، اور ان کی یہ بات بھی قابل ملامت ہے کہ انہوں نے قرآن وار عقیدہ توحید کا اس لیے انکار کردیا کہ یہ ان کے آبا و اجداد کا عقیدہ نہیں تھا، اور ان کی یہ بات بھی قابل حیرت ہے کہ جس آدمی کو انہوں نے بچپن سے جانا پہچانا، زندگی بھر جس کی صداقت و امانت کی گواہی دی، جب انہوں نے اسلام کی دعوت پیش کی تو ان کے ساتھ ایسا کرنے لگے، جیسے پہلے سے ان کے اخلاق و کردار کو جانتے ہی نہیں تھے، اور اس سے بھی گھناؤنی بات ان کا یہ بہتان ہے کہ محمد کو جنون لاحق ہوگیا ہے، حالانکہ تمام کفار مکہ جانتے تھے کہ محمد ان میں سب سے زیادہ عقلمند اور سنجیدہ آدمی ہیں، اسی لیے اللہ نے اس کے بعد کہا، بات دراصل یہ ہے کہ کفار خوب جانتے ہیں کہ قرآن اللہ کا کلام ہے، اور محمد ان سب سے زیادہ صادق و امین اور عاقل و سمجھ دار انسان ہیں اور جس دین کی طرف وہ انہیں بلا رہی ہیں وہ دین برحق ہے، لیکن ان میں اکثر لوگ اپنے کبر ونخوت اور کفر و سرکشی کی وجہ سے اس کا انکار کر رہے ہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت