(11) رسولوں نے کہا کہ ہاں، ہم تمہارے ہی جیسے انسان ہیں، لیکن اللہ نے ہمیں بحیثیت نبی چن لیا ہے، اللہ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے احسان کرتا ہے اور اسے اپنا نبی بنا لیتا ہے، اور ہم کوئی نشانی اپنی مرضی سے نہیں لاسکتے ہیں، اللہ جب چاہتا ہے بھیجتا ہے اور اس نے اس وقت نہیں چاہا ہے۔
موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کے بعد اپنے مومن ساتھیوں کو خطاب کر کے کہا کہ مومنوں کو صرف اللہ پر بھروسہ کرنا چاہیے، اور ان کا مقصد سب سے پہلے اپنے آپ کو نصیحت کرنی تھی کہ ہمیں قوموں کی جانب سے جو بھی تکلیف دعوت کی راہ میں پہنچ رہی ہے اس پر صبر کرنے کے لیے اللہ پر بھروسہ کرنا چاہیے اور اسی سے مدد مانگی چاہیے، اسی لیے آیت (12) میں کہا کہ اللہ پر بھروسہ نہ کرنے کے لیے ہمارے پاس کیا عذر باقی رہ گیا ہے جبکہ اس نے ہم میں سے ہر ایک کو راہ راست پر ڈال دیا اور اس پر استقامت کو واجب کردیا ہے، اور چونکہ کافروں کی اذیت دہانی سے پائے استقلال میں تزلزل آنے کا خطرہ ہوتا ہے، اس لیے اپنی قوت ارادہ اور عزم صمیم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اے لوگو ! ہم دعوت کی راہ میں تمہاری اذیتوں پر صبر کریں گے، اور بھروسہ کرنے والوں کو صرف اللہ پر بھروسہ کرنا چاہیے۔ مفسرین لکھتے ہیں کہ داعی الی اللہ کو ہر حال میں صرف اللہ پر بھروسہ کرنا چاہیے، کیونکہ ہر قوت و عزیمت کا سر چشمہ صرف اللہ ہے۔