فهرس الكتاب

الصفحة 4603 من 6343

(6) اس آیت کریمہ میں اہل مکہ کے لئے زبردست دھمکی اور شدید وعید آئی ہے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مخاطب کر کے کہا گیا ہے کہ ایام گزشتہ میں بہت سی ایسی بستیاں پائی گئی ہیں جن کے رہنے والے، آپ کی بستی مکہ کے رہنے والوں سے زیادہ طاقت ور اور زیادہ مال و جاہ والے تھے، جب ان کے رہنے والوں نے اللہ کے رسولوں کی تکذیب کی، تو ہم نے انہیں ہلاک کردیا اور کوئی ان کی مدد کے لئے نہیں آیا۔ اب جبکہ اہل مکہ نے آپ کو یہاں سے نکل جانے پر مجبور کردیا ہے اور آپ کی تکذیب پر اصرار کر رہے ہیں، تو ہم اس پر بے شک قادر ہیں کہ انہیں ہلاک کردیں، لیکن چونکہ ہم نے آپ کو رسول رحمت بنا کربھیجا ہے، اسی لئے ان کے ہلاک کئے جانے میں جلدی نہیں کی جا رہی ہے۔

آیت (14) میں اللہ تعالیٰ نے مومن و کافر اور موحد و مشرک کا فرق واضح کر کے مشرکین مکہ کو دعوت ایمان دی ہے، اور انہیں اپنی حالت بدلنے کی نصیحت کی ہے۔ اللہ نے فرمایا کہ جو شخص علم و برہان کی روشنی میں صحیح عقیدے کا حامل ہو، اللہ کی وحدانیت کا اقرار کرنے والا، اور صرف اسی کی عبادت کرنے والا ہو، کیا وہ اس شخص کے مانند ہوسکتا ہے، جس کے کفر و شرک کو شیطان نے اس کی نظر میں جائز اور خوبصورت بنا دیا ہو، اس لئے وہ بتوں کی پرستش کرتا ہے اور اپنے نفس کی پیروی کرتا ہے؟ جو اب معلوم ہے کہ جس طرح زندگی اور موت، اور جنت و جہنم برابر نہیں ہیں، اسی طرح مومن و کافر اور موحد و مشرک برابر نہیں ہو سکتے ہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت