فهرس الكتاب

الصفحة 1573 من 6343

(76) انہوں نے حقارت آمیز انداز میں کہا کہ اے شعیب ! تمہاری ابتیں تو ہمیں سمجھ میں نہیں آتیں، تم غیبی امور کی باتیں کرتے ہو، موت کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے، توحید باری تعالیٰ اور مال میں حلال و حرام کی باتیں کرتے ہو، یہ سب باتیں قابل قبول نہیں ہیں، اور تم اپنی انہی باتوں کی وجہ سے سب سے کٹ کر تنہا رہ گئے ہو تمہاری کوئی حیثیت نہیں رہ گئی ہے، اگر تمہاری قوم کا خیال نہ ہوتا تو ہم تمہیں پتھروں سے مار مار کر ہلاک کردیتے، اور تم ہماری نظر میں کسی حیثیت سے بھی معزز نہیں ہو کہ تمہیں رجم نہ کرتے، یہ صرف تمہاری قوم کا خیال آتا ہے کہ تمہیں اب تک چھوڑ رکھا ہے، اس لیے کہ وہ لوگ ہمارے دین پر ہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت