(4) اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اگر ابوجہل ہمارے رسول کی ایذا رسانی سے باز نہیں آیا اور انہیں مسجد حرام اور مقام ابراہیم کے پیچھے نماز پڑھنے سے روکنے کی دوبارہ کوشش کی تو ہم اسے اس کی جھوٹی اور گناہوں میں ملوث پیشانی سے پکڑ لیں گے اور گھسیٹتے ہوئے جہنم میں پہنچا دیں گے اس وقت اگر وہ اپنی مجلس اور قوم کے ان لوگوں کو بلانا چاہے تو بلا لے جن کے بل بوتے پر وہ آپ کو نماز سے روکنا چاہتا ہے ہم بھی جہنم کے دارغوں کو بلا لیں گے، ترمذی وغیرہ نے ابوہریرہ (رض) سے روایت کی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز پڑھ رہے تھے، ابوجہل آیا اور کہنے لگا: کیا میں نے تمہیں نماز پڑھنے سے روکا نہیں تھا؟ تو خوب جانتے ہو کہ مجھ سے زیادہ دوست اور مددگار کسی کے پاس نہیں ہیں تو اللہ تعالیٰ نے (فلیدع نادیہ سندعوا الزبانیۃ) نازل فرمائی۔
وہ مجرم اپنی ان حرکتوں سے باز آجائے اور یقین کرلے کہ آئندہ وہ ہمارے رسول کو ایذا نہیں پہنچا سکے گا، مفسرین لکھتے ہیں کہ ابو جہل نے اس کے بعد آپ کے ساتھ بد زبانی یا ہاتھ سے ایذا پہنچانے کی جرأت نہیں کی۔
آیت (91) میں اللہ تعالیٰ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بطور تنبیہ فرمایا کہ آپ ابوجہل کی بات ہرگز نہ مانئے اور مسجد حرام میں نماز پڑھتے رہئے اور دیگر عبادات کے ذریعہ اپنے رب کی قربت حاصل کرتے رہئے۔
صحیح مسلم میں ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا:" بندہ اپنے رب سے سب سے زیادہ قریب حالت سجدہ میں ہوتا ہے، اس لئے تم لوگ سجدہ میں کثرت سے دعا کرو"
نیز صحیح مسلم میں ہی ابوہریرہ رضی اللہ کی دوسری روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ہم نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ (اقراء باسم ربک) اور (اذا السماء انشقت) میں سجدہ کیا اسی لئے امام شافعی کے نزدیک اس سورت کا سجدہ اہم سجدوں میں سے ہے اور قاری اور سننے والے کے لئے اس کی قرأت کے بعد سجدہ کرنا مسنون ہے۔