فهرس الكتاب

الصفحة 802 من 6343

(10) اس آیت کریمہ میں کافروں کے ایک نئے قسم کے کبر وعناد کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا اگر محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نبی ہے، تو اللہ نے ایک فرشتہ کیوں نہ آسمان سے اتاریا جسے ہم دیکھتے اور جو ہمیں بتاتا کہ یہ نبی ہیں تاکہ ہم اس پر ایمان لے آتے ؟ اللہ تعالیٰ نے اس کا جواب دا اور فرشتہ نہ بھیجنے کا سبب بیان کہا کہ یہ تو اپنی موت تلاش کرنے اور اپنے ہاتھ سے قبر کھودنے کے مترادف ہے، کیونکہ فرشتہ کا اس کا اصل شکل میں اتر آنا سب سے کھلی اور آخری نشانی ہوگی اور اگر اس کے بعد بھی ایمان نہ لائے، تو انہیں اللہ کے عذاب سے کوئی نہیں بچاسکتا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے سورۃ حجر آیت (8) میں فرمایا ہے: ہم فرشتوں کو حق کے ساتھ اتارتے ہیں اور اس وقت وہ ملہت دیئے گئے نہیں ہوتے"اور سورۃ فرقان آیت (22) میں فرمایا: کہ وہ لوگ جس دن فرشتوں کو دیکھ لیں گے، اس دن ان مجرموں کو کوئی خوشی نہ ہوگی"

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت