(42) قیامت کے دن اللہ تعالیٰ جب مخلوق کے درمیان فیصہل کرنے کے لئے ظاہر ہوگا تو اس کی تجلی سے پورا میدان محشر اجالا ہوجائے گا اور لوگوں کے نامہ ہائے اعمال سامنے لائے جائیں گے اور انبیائے کرام آگے آئیں گے جو گواہی دیں گے کہ انہوں نے اپنی اپنی امتوں کو اللہ کا پیغام پہنچا دیا تھا، او نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی امت کے لوگ آگے لائیں گے جائیں گے جو گواہی دیں گے کہ گزشتہ انباء نے اپنی اپنی امتوں تک اللہ کا پیغام پہنچا دیا تھا اور اللہ تعالیٰ اپنی تمام مخلوقات کے درمیان پورے عدل و انصاف کے ساتھ فیصلہ کر دے گا، کسی پر کوئی ظلم نہیں ہوگا اور چونکہ اللہ تعالیٰ بندوں کے اعمال کو ان سے زیادہ جانتا ہے اس لئے حساب میں کوئی ظلم و زیادتی نہیں ہوگی اور نہ اس میں کسیخ طا غلطی یا بھول چوک کا امکان ہوگا۔