(2) اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خبر دی ہے کہ ہم آپ پر قرآن نازل کرنے والے ہیں جس کا آپ کے جسم و جان پر بڑا بھاری اثرپڑے گا، امام بخاری نے عائشہ (رض) کا قول نقل کیا ہے کہ " آپ پر سخت سردی کے زمانے میں بھی وحی نازل ہوتی تھی تو آپ کی پیشانی پسینہ سے شرابور ہوجاتی تھی"
قتادہ نے " قول ثقیل" کی یہ تشریح کی ہے کہ اللہ کی قسم ! قرآن میں مذکور فرائض و حدود کو نباہنا انسان کے لئے بڑا بھاری کام ہے۔ مجاہد نے اس سے قرآن میں مذکور " حلال و حرام" مرادل یا ہے۔ فراء نے اس سے مراد بھاری بھرکم کلام مرادلیا ہے۔ یعنی قرآن کریم ہلکا اور سطحی کلام نہیں ہے، اس لئے کہ یہ ہمارے رب کا کلام ہے۔