فهرس الكتاب

الصفحة 6245 من 6343

(1) اس سورۃ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے ایک بڑی حقیقت کے اظہار کے لئے قسم کھائی ہے، جس سے بہت سے لوگ ناواقف ہیں اور وہ یہ ہے کہ آدمی اپنے رب کی بڑی ناشکری کرتا ہے۔ مصیبتوں کو توگنتا رہتا ہے اور نعمتوں اور احسانات کو بھول جاتا ہے۔

یہاں اللہ تعالیٰ نے گھوڑوں کی قسم کھائی ہے جن میں فی الواقع اللہ کی بڑی نشانیاں پائی جاتی ہیں اور جن میں انسان کے لئے بہت سارے فوائد و منافع ہیں اور گھوڑے کی ان حالتوں کی قسم کھائی ہے جن میں دیگر حیوانات اس کے شریک نہیں ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ان گھوڑوں کی قسم جو نہایت شدت کے ساتھ دشمن کی طرف دوڑتے ہیں، جس کے سبب ان کے سینے سے ایک خاص آواز نکلنے لگتی ہے اور ان گھوڑوں کی قسم جن کے تیز دوڑنے کے سبب ان کے گھروں کی رگڑ سے راہ کے پتھروں سے چنگاریاں اڑنے لگتی ہیں اور ان گھوڑوں کی قسم جو صبح کے وقت دشمنوں پر حملہ کرتے ہیں تاکہ انہیں اچانک جا لیا جائے، اور انہیں دفاع کرنے یا بھاگنے کا موقع نہ دیا جائے ور نہ دشمن کے خلاف فوج کشی اور گھوڑوں کے ذریعہ ان پر حملہ کسی بھی مناسب وقت میں کیا جاسکتا ہے۔

اور وہ گھوڑے اپنی تیزی رفتار اور دشمن پر حملے کی شدت کے سبب فضا کو غبار آلود بنا دیتے ہیں اور مجاہدین اسلام کو لے کر دشمن کی صفوں میں گھس جاتے ہیں اور انہیں تہس نہس کردیتے ہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت