7۔ اللہ تعالیٰ نے فرعون اور فرعونیوں کا کافر و عناد بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ جب ہماری کھلی اور روز روشن کی طرح واضح نشانیاں ان کے سامنے پیش کردی گئیں، اور ان کے انکار کے لیے ان سے کچھ نہ بن پڑا تو کہنے لگے کہ یہ تو کھلا جادو ہے اور اپنے دلوں میں اس بات کا یقین رکھتے ہوئے کہ یہ اللہ کے معجزے ہیں، ظلم اور غرور کی راہ اختیار کی اور ان کا انکار کردیا۔ اس لیے آیت 14 کے آخر میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مخاطب کر کے اللہ نے فرمایا۔ آپ دیکھ لیجئے کہ اللہ کی زمین میں فساد پھیلانے والوں کا کیا انجام ہوا، اللہ نے ان سب کو ایک ساتھ سمندر میں ڈبو دیا،
حافظ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ اس آیت میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تکذیب کرنے والوں سے کہا جا رہا ہے کہ اگر تم بھی اپنے کفر و عناد پر اڑے رہے تو کہیں تمہارا انجام بھی فرعونیوں جیسا نہ ہو