فهرس الكتاب

الصفحة 4676 من 6343

(14) اس آیت کریمہ میں انہی دیہاتیوں سے جن کے دلوں میں ایمان داخل نہیں ہوا تھا اور جو ایمان کا دعویٰ کرتے تھے، اللہ تعالیٰ نے زجر و توبیخ کے طور پر کہا ہے کہ تم اللہ کو اپنے دین و ایمان کی خبر دیتے ہو، تاکہ تمہیں مومن مان لیا جائے، حالانکہ وہ تو آسمانوں اور زمین کی ہر شے کی خبر رکھتا ہے، اس لئے اسے خوب معلوم ہے کہت مہارا ایمان کس درجہ کا ہے اور اللہ کا علم ہر چیز کو محیط ہے، اس لئے تمہارے دلوں میں جو بات ہے اس کے خلاف کوئی بات نہ کہو، ورنہ اس کے عقاب سے بچ نہ سکو گے۔

آیت (17) میں انہی دیہاتیوں کی ایک دوسری غلطی پر تنبیہہ کی جا رہی ہے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا جا رہا ہے کہ یہ دیہاتی آپ پر احسان جتاتے ہیں کہ انہوں نے اسلام قبول کرلیا ہے اور ان کی وجہ سے مسلمانوں کی تعداد بڑھ گئی ہے تو آپ ان سے کہہ دیجیے کہ تم لوگ اپنے اسلام لانے کا مجھ پر احسان نہ جتاؤ، اس لئے کہ جو راہ ہدایت پر آجاتا ہے وہ اپنا بھلا کرتا ہے، بلکہ اگر تم اپنے ایمان میں صادق ہوتے تو اللہ تم پر احسان جتاتاکہ اس نے تمہیں ایمان لانے کی توفیق دی، لیکن اسے معلوم ہے کہ تم جھوٹے ہو، اس لئے کہ اس سے کوئی بات مخفی نہیں ہے۔ جیسا کہ آیت (18) میں فرمایا ہے کہ وہ آسمانوں اور زمین کی ہر پوشیدہ چیز کی خبر رکھتا ہے۔ وہ خوب جانتا ہے کہ تم میں کون صادق الایمان ہے اور کون کاذب الایمان۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت