فهرس الكتاب

الصفحة 5096 من 6343

(20) اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو اپنے بعض احسانات کی یاد دلا کر، انیں اپنی وحدانیت کے اعتراف اور اپنی بندگی کی دعوت دی ہے، نیز بعث بعدالموت پر استدلال کیا ہے۔

اللہ نے فرمایا کہ تم زمین کو کاشت کے لئے تیار کر کے اس میں دانے تو چھینٹ دیتے ہو، لیکن ان دانوں کو پودوں کی شکل میں تم اگاتے ہو، یا ہم؟ جواب ظاہر ہے کہ انہیں ہم اگاتے ہیں تو جس طرح ہم مردہ زمین میں بارش کے ذریعہ جان ڈال دیتے ہیں اور بے جان دانوں سے لہلہاتے ہوئے پودے نکالتے ہیں اسی طرح ہم تمہیں بھی قیامت کے دن دوبارہ زندہ کریں گے۔

اور ان پودوں کو مختلف مراحل سے گذار کر، ان میں موجود دانوں کو تمہاری غذا کا سامان بناتے ہیں اگر ہم چاہتے تو دانوں کے پختہ ہونے سے پہلے ہی انہیں خشک کردیتے اور بھس بنا کر اڑا دیتے اور پھر تم اپنی کوشش کے رائیگاں جانے پر کف افسوس ملتے اور کہتے کہ ہم نے جو کچھ خرچ کیا تھا سب ضائع ہوگیا، بلکہ کہتے کہ ہم تو اپنی روزی سے محروم ہوگئے، ہماے اور ہمارے بچوں کے لئے کچھ بھی نہ رہا یعنی تم اپنی بے بسی کا اظہار کرنے کے لئے سوا کچھ بھی نہیں کرسکتے تھے، لیکن اللہ اپنے بندوں پر بڑا ہی مہربان ہے کہ وہ ان دانوں کی پرورش کرتا ہے، یہاں تک کہ پختہ ہو کر غذا کے قابل بن جاتے ہیں اور انسان انہیں اپنے گھر میں لا کر اپنے اور اپنے بچوں کے لئے ذخیرہ کرلیتا ہے اس کی یہ مہربانی بندوں سے تقاضا کرتی ہے ہے کہ اس کی وحدانیت کا اعتراف کریں اور صرف اسی کی بندگی کریں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت