(4) اس آیت کریمہ میں حفصہ، عائشہ اور دیگر امہات المومنین کو مزید دھمکی دی گئی ہے اور انہیں ڈرایا گیا ہے کہ اگر تم میرے نبی کو اذیت پہنچاؤ گی تو ممکن ہے وہ تم سب کو طلاق دے دیں اور ان کا رب تمہارے بدلے انہیں تم سے اچھی بیویاں عطا کرے، لیکن اللہ تعالیٰ نے ان پر کرم کیا اور اس آیت کے نازل ہونے کے بعدتمام امہات المومنین نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو راضی کیا، آپ کا غایت و رجہ ادب و احترام کیا اور بہترین مسلمان عورتیں بن گئیں، اس لئے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انہیں طلاق نہیں دی، بلکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب تک دنیا میں رہے، وہ سب آپ کی بیویاں ہیں، اور آخرت میں بھی آپ کی بیویاں ہوں گی۔