فهرس الكتاب

الصفحة 3722 من 6343

17 مذکورہ ذیل دو آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے مومنوں کچھ صفات بیان کی ہیں اور ان کی وجہ سے ان کے رب کا ان کے ساتھ جب احسان و اکرامکا معاملہ ہوگا اسے ذکر کیا ہے، فرمایا ہے کہ جو لوگ پابندی کے ساتھ قرآن کریم کی تلاوت کرتے ہیں، اس کے حقائق و معانی کو سمجھنے کے لئے اس میں غور و فکر کرتے ہیں، نمازوں کی ادائیگی کا اہتمام کرتے ہیں، ارکان، واجبات، سنن، اور خشوع و خضوع کا خاص خیال رکھتے ہیں اور اللہ نے انہیں جو روزی دی ہے، اس میں سے حالات کے تقاضے کے مطابق کبھی چھپا کر اور کبھی دکھا کر اس کی راہ میں خرچ کرتے ہیں، ایسے لوگ قیامت کے دن اللہ سے ایسے اجر و ثواب کی امید کھتے ہیں جس کا حصول یقینی ہے اس دن اللہ تعالیٰ انہیں ان کا پورا پورا اجر دے گا، بلکہ اپنے فضل و کرم سے اتنا زیادہ دے گا جس کا انہوں نے پہلے سے تصور بھی نہیں کیا ہوگا، اس لئے کہ رب العالمین اپنے مومن و تائب بندوں کے گناہوں کو معاف کردیتا ہے اور ان کے نیک اعمال کا بہت ہی اچھا بدلہ دیتا ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت