(1) اللہ تعالیٰ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فرمایا: اے میرے نبی ! آپ کہئے کہ میں صبح کے رب کی جناب میں پناہ لیتا ہں، یا میں تمام مخلوقات کے رب کی پناہ مانگتا ہوں، جن و انس اور دیگر تمام مخلوقات کے شر سے، چاہے وہ حیوانات ہوں یا جمادات یا اللہ کی کوئی بھی مخلوق ہو اور میں پناہ مانگتا ہوں اللہ کے ذریعہ رات سے، جب اس کی بھیانک تاریکی ہر جگہ داخل ہوجاتی ہے اور چاند کی برائی سے پناہ مانگتا ہوں جب اس کی روشنی مدھم ہوجاتی ہے۔
ترمذی اور نسائی عائشہ (رض) سے روایت کی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے چاند کی طرف دیکھا اور کہا:" اے عائشہ ! اللہ کے ذریعہ اس کے شر سے پناہ مانگو، یہی غاشق ہے جب اس کی روشنی دھیمی ہوجاتی ہے" انتہی اس لے کہ رات کے وقت جنوں اور انسانوں کے شیاطین چاروں طرف پھیل جاتے ہیں اور اس وقت کفر و فسق، شر و فساد، چوری، خیانت اور دیگرمعاصی کا ارتکاب زیادہ ہوتا ہے، اسی طرح مشرکین، اہل نجوم اور جادوگر چاند کی عبادت کرتے ہیں، اسے وسیلہ بناتے ہیں، اور بے شمار جادو اور کفر یہ باتوں کا تعلق چاند سے جوڑتے ہیں۔
اور میں ان جادوگر عورتوں سے پناہ مانگتا ہوں جو دھاگے پر جادو پڑھ کر پھونکتی ہیں، اور ان میں گر ہیں ڈالتی ہیں، نسائی اور ابن مردویہ نے ابوہریرہ (رض) سے روایت کی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا:" جس نے گرہ ڈال کر اس میں پھونکا، اس نے جادو کیا اور جس نے جادو کیا اس نے شرک کیا اور جس نے کسی چیز سے (اللہ کے سوا) اپنا تعلق جوڑا، اسے اسی چیز کے سپرد کردیا گیا"
اور میں پناہ مانگتا ہوں حاسد کے حسد سے، جب وہ اپنا حسد ظاہر کرتا ہے تاکہ محسود کو نقصان پہنچائے، بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ حاسد کے مفہوم میں وہ آدمی بھی داخل ہے جس کی نظر لگ جاتی ہے، اس لے کہ جو آدمی حاسد، بدطینت اور خبیث النفس ہوتا ہے اسی کی نظر بری ہوتی ہے، عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کا قول ہے: میں نے حاسد سے زیداہ کسی ظالم کو مظلوم کے مشابہ نہیں دیکھا، یعنی حسد کے سبب ظالم ہوتا ہے، لیکن نعمت سے محرومی کے سبب مظلوم معلوم ہوتا ہے۔
شوکانی لکھتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے اس سورت میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بالعموم تمام مخلوقات کے شر سے پناہ مانگنے کی تعلیم دی ہے، اس کے بعد تین برائیوں سے بالخصوص پناہ مانگنے کی نصیحت کی ہے، جن کا ذکر اوپر گذر چکا، اس لئے کہ یہ برائیاں بہت زیاد خطرناک ہیں، اور ان کا نقصان بہت بڑا ہے۔