فهرس الكتاب

الصفحة 2057 من 6343

(7) جب اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ہر چیز بیان کردی ہے تو کسی کے پاس راہ ضلالت اختیار کرنے کے لیے کوئی عذر باقی نہ رہا، اسی لیے اس آیت میں اللہ نے فرمایا کہ ہر آدمی اپنی مرضی اور اختیار سے جو بھی اچھے یا برے اعمال کرتا ہے اس سے وہ چھٹکارا نہیں پاسکتا ہے اس کا عمل اس کے ساتھ ایسا ہی لگا ہوتا ہے جیسے کسی کی گردن کا طوق، اس سے کسی حال میں بھی الگ نہیں ہوتا ہے۔ اور اس عمل کے مطابق سعادت و نیک بختی یا شقاوت و بدبختی بھی اس کے ساتھ لگی ہوتی ہے۔ اس سے وہ چھٹکارا نہیں پاسکتا ہے، اگر بدبخت ہوگا تو جہنم اور نیک بخت ہوگا تو جنت اس کا ٹھکانا ہوگا۔ اور قیامت کے دن ہر آدمی اپنا نامہ اعمال اپنے آگے پھیلا ہوا پائے گا۔ اور اس سے کہا جائے گا کہ اپنا نامہ اعمال پڑھو جس میں تمہارے چھوٹے بڑے تمام اعمال درج ہیں، اور آج تم خود ہی اپنے اعمال کا حساب لگاؤ گے اور گواہ بنو گے کہ تم نے ان کا ارتکاب کیا تھا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت