فهرس الكتاب

الصفحة 2758 من 6343

19۔ جن کفار قریش کو اللہ تعالیٰ نے مال و اولاد سے نوازا تھا اور جن کی رسی ڈھیل دی تھی تاکہ کفر و سرکشی میں تیزی کے ساتھ آگے بڑھتے چلے جائیں، جب میدان بدر میں اللہ نے ان کی گرفت کی اور قید و بند اور قتل کی صورت میں اس کا عذاب ان پر مسلط ہوگیا یا جب رسول اللہ کی دعا کی وجہ سے اللہ نے انہیں قحط سالی میں مبتلا کردیا، تو چیخ و پکار کرنے لگے، اس وقت اللہ تعالیٰ نے ان سے کہا کہ اب چیخ و پکار کا کوئی فائدہ نہیں ہے، اب ہمارے عذاب سے نجات دلانے کے لیے تمہارا کوئی مددگار نہیں ہے، جب میری آیتیں تمہارے سامنے پڑھی جاتی تھیں اور کہا جاتا تھا کہ ان سے نصیحت حاصل کرو، تو تم منہ موڑ کر چل دیتے تھے اور اس غرور میں مبتلا تھے کہ تم لوگ اہل حرم ہو تو بھلا تم پر کون غالب آسکتا ہے؟ اور خانہ کعبہ کے گرد اپنی راتوں کی مجلس میں قرآن میں عیب نکالتے تھے کبھی اسے جادو بتاتے تھے تو کبھی شعر، تاکہ لوگ اس پر ایمان نہ لائیں۔

بعض مفسرین نے عذاب سے مراد عذاب آخرت لیا ہے، اور کہا ہے کہ کافروں کی چیخ و پکار قیامت کے دن عذاب جہنم کی وجہ سے ہوگ میدان بدر میں یا مکہ میں قحط سالی کی وجہ سے کافروں نے چیخ و پکار نہیں کی تھی۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت