فهرس الكتاب

الصفحة 2446 من 6343

(30) بنی اسرائیل کو اللہ تعالیٰ نے جو نعمتیں دی تھیں اور ان پر جو احسانات کیے تھے انہی کا ذکر ہورہا ہے، اور انہیں نصیحت کی جارہی ہے کہ وہ اللہ کا شکر بجا لائیں تاکہ وہ نعمتیں باقی رہیں اور ناشکری نہ کریں تاکہ اللہ کے عذاب و غضب سے بچے رہیں، اللہ تعالیٰ نے انہیں ان کے دشمن فرعون سے نجات دی، پھر ان کی دینی رہنمائی کے لیے انہیں حکم دیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ کوہ طور کے پاس جائیں، تاکہ اللہ جب ان سے ہم کلام ہو تو اس منظر کو دیکھ کر ان کا ایمان راسخ ہو، اور تورات لے کر موسیٰ کے ساتھ واپس آکر اس پر عمل کریں۔

اللہ نے ان پر یہ بھی احسان کیا کہ میدان تیہ میں انہیں کھانے کے لیے من و سلوی عطا کیا، اور نصیحت کی کہ ہماری دی ہوئی حلال روزی کھاؤ اور حد سے تجاوز نہ کرو، ورنہ ہمارے غیظ و غضب کے مستحق ہوجاؤ گے، اور جس پر ہمارا غضب نازل ہوجاتا ہے وہ ہلاک ہوجاتا ہے اور جو کفر وشرک اور معصیت و نفاق سے توبہ کرتا ہے ایمان و عمل صالح کی زندگی اختیار کرتا ہے اور اس پر ثابت قدم رہتا ہے ہم اسے معاف کردیتے ہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت