فهرس الكتاب

الصفحة 4823 من 6343

(19) اس آیت میں بھی استفہام، نفی کے معنی میں ہے، یعنی کیا انکے پاس کوئی ایسی سیڑھی ہے جس کے ذریعہ وہ آسمان تک پہنچ جاتے ہیں اور فرشتوں کی وہ باتیں سن لیتے ہیں جو انہیں بذریعہ وحی معلوم ہوتی ہے اور اس طرح انہیں غیب کی باتیں معلوم ہوجاتی ہیں؟ ایسی کوئی بات نہیں ہے اور اگر وہ اس کا دعویٰ کرتے ہیں، تو اپنی صداقت پر دلیل پیش کریں اور وہ دلیل کیسے پیش کرسکیں گے، غیب کی خبریں تو صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہیں، وہ کسی کو بھی ان پر مطلع نہیں کرتا ہے، سوائے اس رسول کے جسے وہ اپنی پیغام رسانی کے لئے چن لیتا ہے، تو اسے جتنی باتوں کی چاہتا ہے خبر دیتا ہے اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں، جنہیں اس نے اپنی توحید اور دین اسلام کی صداقت کی خبر دی ہے اور مشرکین مکہ نادان، گمراہ اور کبرو عناد میں مبتلا ہیں، جن کے پاس آسمان سے کوئی خبر نہیں آتی ہے تو بھلا کس کی بات مانی جائے، ان کی یا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آسمان سے وحی آتی ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت