فهرس الكتاب

الصفحة 2712 من 6343

5۔ پانی اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم آسمان سے انسانوں کی ضرورت کے مطابق بارش نازل کرتے ہیں، پھر اسے زمین کی تہوں میں ٹھہراتے ہیں اور حسب ضرورت و حکمت چشموں کے ذریعہ اسے اوپر لاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ سورۃ الزمر آیت (21) میں فرمایا ہے: (الم تر ان اللہ انزل من السماء ماء فسلکہ ینابیع فی الارض) کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ آسمان سے پانی اتارتا ہے اور اسے زمین کی سوتوں میں پہنچاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آگے فرمایا: اور ہم جب چاہیں اس پانی کو ختم کردیں۔ مفسرین لکھتے ہیں کہ یہ عظیم نعمت انسانوں سے تقاضا کرتی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کا ہمیشہ شکر ادا کرتے رہیں، اور ڈرتے رہیں کہ اگر شکر ادا نہ کیا تو نعمت چھینی جاسکتی ہے۔

آیت (19) میں فرمایا کہ ہم نے اس پانی کے ذریعہ تمہارے لیے کھجوروں اور انگوروں کے باغات پیدا کیے ہیں، جن میں مختلف ذائقے اور رنگ کے پھل پیدا ہوتے ہیں، اور ان پھلوں میں سے بعض انواع کھانا کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔ مفسرین لکھتے ہیں کہ کھجور اور انگور کا ذکر بطور خاص اس لیے کیا گیا کہ اہل حجاز دوسرے پھلوں کی بہ نسبت ان دونوں پھلوں کو زیادہ جانتے تھے، دیگر ممالک میں اللہ نے دوسرے بہت سے لذیذ و نافع پھل پیدا کیے ہیں، جن کا شکر ادا کرنے سے ان ملکوں کے رہنے والے عاجز ہیں۔

آیت (20) اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم نے ایک اور درخت پیدا کیا ہے جو طور سینا کے ارد گرد کے علاقوں میں کثرت سے ہوتا ہے، یعنی زیتون کا درخت، جس سے تیل نکلتا ہے، اور جسے کھانے والے سالن کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت