(7) اللہ تعالیٰ نے فرمایا: لیکن اے بنی نوع انسان ! تم وہ نہیں کرتے جو آخرت میں تمہاری کامیابی و کامرانی کا سبببنے، بلکہ دنیا کی فانی لذتوں کے سرگرداں رہتے ہو، حالانکہ آخرت دنیا سے کہیں بہتر ہے، اس کی نعمتیں لازوال ہیں اور دنیا دار فانی ہے۔ مالک بن دینار کا قول ہے کہ اگر دنیا فنا ہوجانے والے سونے کی بنی ہوتی اور آخرت لازوال ٹھیکرے کی، تو لازوال ٹھیکرے کو فانی سونے پر ترجیح دینا واجب ہوتا، چہ جائیکہ آخرت لازوات سونے کی بنی ہوئی ہے، اور دنیا فانی ٹھیکرے کی۔