فهرس الكتاب

الصفحة 4748 من 6343

(11) قیامت اور بعث بعد الموت کی یقین دہانی کے بعد، اب ان قوموں کا ذکر کیا جا رہا ہے جنہوں نے کفار کمہ سے پہلے رسولوں اور بعث بعدالموت کی تکذیب کی تھی۔ اس ضمن میں یہاں پہلا واقعہ قوم لوط کا ہے، اس کا ذکر اس سے پہلے سورۃ ہود اور سورۃ الحجر میں گذر چکا ہے۔

مفسرین لکھتے ہیں کہ کلمہ استفہام " ھل" کے ذریعہ اس واقعہ کی ابتدا اس پر دلالت کرتی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پہلے سے اس کی خبر نہیں تھی، اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعہ انہیں اس کی اطلاع دی تھی۔ یہاں اس کی ابتدایوں ہوئی ہے کہ ایک دن ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس کچھ ایسے فرشتے آئے جن کا اللہ کے نزدیک بڑا مقام تھا، جب وہ ابراہمی کے پاس پہنچے تو انہوں نے سلام کیا، ابراہیم (علیہ السلام) نے ان کے سلام کا جواب دیا اور کہا کہ میں آپ لوگوں کو نہیں پہچانتا ہوں، اپنا تعارف کرائیے تاکہ معلوم ہو کہ آپ لوگ کون ہیں، ابتدائی تعارف کے بعد، ابراہیم (علیہ السلام) فوراً ہی مہمانوں سے بتائے بغیر اپنے اہل خانہ کے پاس پہنچے، تاکہ ان کی میزبانی کا انتظام کریں اور جیسا کہ سورۃ ہود آیت (69) میں آیا ہے: (بعجل حنیذ) " ایک بھنا ہوا بچھڑا ان کے سامنے لے کر آئے" اور اسے مہمانوں کے قریب کیا، لیکن انہوں نے کھانے کے لئے ہاتھ نہیں بڑھایا، تو ان سے پوچھا کہ آپ لوگ کھاتے کیوں نہیں اور دل ہی دل میں ڈرنے لگے کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ ان کی نیت ہمارے بارے میں اچھی نہیں ہے۔

اسی لئے ہمارا کھانا نہیں کھا رہے ہیں، جیسا کہ سورۃ ہود (70) میں آیا ہے: (فلما رای ایدیھم لاتصل الیہ نکرھم واوجس منھم حیفۃ) " جب ابراہمی نے دیکھا کہ ان کے ہاتھ کھانے کی طرف نہیں بڑھ رہے ہیں، تو ان سے اجنبیت محسوس کرنے لگے اور اندر ہی اندر ان سے ڈر گئے۔ "

جب ان فرشتوں نے دیکھا کہ ابراہیم اندر ہی اندر کسی انہونی شر سے ڈر گئے ہیں، تو انہیں اپنی حقیقت کی اطلاع دے دی، اور ایک لڑکے کی خوشخبری دی جو بڑا ہو کر صاحب علم و فضل ہوگا۔ جمہور اہل علم کے نزدیک اس لڑکے سے مراد اسحاق (علیہ السلام) ہیں، جیسا کہ سورۃ ہود آیت (71) میں اس کی صراحت آگئی ہے: (فبشرنا ھا باسحاق) " ہم نے سارہ علیہما السلام کو اسحاق کی خوشخبری دی" اور سورۃ الصافات آیت (112) میں آیا ہے: (وبشرناہ باسحاق) " ہم نے ابراہیم کو اسحاق کی بشارت دی" سارہ علیہا السلام نے (جو بوڑھی ہوچکی تھیں) جب یہ بات سنی تو مارے حیرت کے ان کے منہ سے چیخ نکل گئی اور اپنا چہرہ پیٹنے لگیں اور کہنے لگیں کہ میں تو بڑھی ہوں اور بانجھ ہوں، مجھے کیسے بچہ ہوگا ؟ تو فرشتوں نے کہا کہ جیسا ہم نے آپ کو خبر دی ہے ویسا ہی اللہ نے فرمایا ہے، اس لئے اس بارے میں کوئی شبہ نہ کیجیے، اللہ نے جو چاہا ہے وہ ہو کر رہے گا (اسوقت سارہ ننانوے سال کی اور ابراہیم(علیہ السلام) سو سال کے تھے) اللہ نے آیت کے آخر میں فرمایا کہ وہ اپنے اقوال و افعال میں بڑا حکیم اور ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت