سورۃ الانشقاق مکی ہے، اس میں پچیس آیتیں اور ایک رکوع ہے
تفسیر سورۃ الانشقاق
نام: پہلی آیت میں " اشقت" لفظ آیا ہے، جو انشقاق کا فعل ماضی ہے، اسی لئے اس سورت کا نام " الانشقاق" رکھ دیا گیا ہے۔
زمانہ نزول: یہ سورت بالاتفاق مکی ہے، ابن مردویہ اور بیہقی وغیرہ نے ابن عباس اور ابن الزبیر (رض) سے یہی روایت کی ہے، بخاری و مسلم وغیرہ نے ابو رافع سے روایتکی ہے کہ میں نے ابوہریرہ کے ساتھ عشاء کی نماز پڑھی، انہوں نے (اذا السماء انشقت) پڑھی اور سجدہ کیا اور کہا کہ میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے سجدہ کیا ہے اس لئیسجدہ کرتا رہوں گا، یہاں تک کہ ان سے جا ملوں۔