فهرس الكتاب

الصفحة 2839 من 6343

15۔ عائشہ صدیقہ کی برات سے متعلق یہ آخری آیت ہے۔ اکثر مفسرین کا خیال ہے کہ یہاں خبیثات سے مراد برے کلمات اور خبیثون سے مراد برے لوگ ہیں، اسی طرح طیبات سے مراد اچھے کلمات اور طیبون سے مراد اچھے لوگ ہیں۔ یعنی خبیث عورتیں وار مرد ہمیشہ بری باتیں کرتے ہیں اور اچھی عورتیں اور مرد ہمیشہ اچھی باتیں کرتے ہیں۔ اس میں ان لوگوں کو خبیث کہا گیا ہے جنہوں نے عائشہ صدیقہ کی پاکدامنی کے خلاف بات بنائی تھی، اور جن صحابہ کرام نے ابتدا سے ہی اس بات کو نہیں مانی تھی انہیں اچھے لوگوں سے تعبیر کیا گیا ہے۔

ایک تفسیر یہ بھی بیان کی گئی ہے کہ خبیث سے مراد عبداللہ بنا بی اور طیب اور طیبہ سے مراد رسول اللہ اور عائشہ صدیقہ ہیں۔ یعنی ابن بی خبیث کو ہی خبیث بیوی ملے گی، رسول اللہ تو طیب ہیں اس لیے ان کو عائشہ جیسی طیبہ (اچھی) بیوی ملی ہیں۔

آیت کے دوسرے حصے میں عائسہ اور صفوان بن معطل کی برات و پاکدامنی کی صراحت کردی گئی ہے کہ اللہ کے یہ نیک بندے عبداللہ بن ابی کی بہتان تراشی سے بالکل پاک ہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت