فهرس الكتاب

الصفحة 2550 من 6343

(19) یہاں سے دس انبیائے کرام کے واقعات کی ابتدا ہوئی ہے اور آیات (7، 8، 9) میں جو بات اجمالی طور پر بیان کی گئی ہے اسی کی تفصیل بیان کی جارہی ہے، انبیائے کرام کے قصے بیان کرنے سے مقصود نبی کریم کو تسلی دینی اور ان کے دل کو تقویت پہچانی ہے، اس لیے کہ تمام ہی قصوں میں اللہ تعالیٰ نے یہ ہے کہ جن لوگوں نے ان انبیا کی دعوت کو ٹھکرا دیا اللہ نے انہیں ہلاک کردیا اور انبیا اور ان کے مسلمان ساتھیوں کو بچالیا، اس لئیے آپ اطمینان رکھیں کہ بالآخر غلبہ آپ کو اور اس دین کو حاصل وہگا جس کی تبلیغ کے لیے آپ مکلف کیے گئے ہیں اور مشرکین مکہ کو منہ کی کھانی پڑے گی۔

آیات (48، 49) میں فرقان سے مراد تورات ہے جو حق و باطل کے درمیان تفریق کرتی تھی، جہالت کی تاریکیوں میں مشعل کا کام دیتی تھی، اور بنی اسرائیل کے وہ اہل تقوی اس کی تعلیمات سے نصیحت حاصل کرتے تھے جو اپنے رب کے ان دیکھے عذاب سے ڈرتے تھے اور روز قیامت کے تصور سے خوف کھاتے تھے کہ کہیں اعمال صالحہ میں تفریط پر اس دن مواخذہ نہ ہوجائے، اور عذاب کے سزاوار نہ ٹھہرا دیئے جائیں۔

آیت (50) میں مخاطب کفار مکہ ہیں جو تورات کو آسمانی کتاب سمجھتے تھے کہ جب تم اس کے کلام الہی ہونے کے معترف ہو تو اس مبارک کتاب کا کیوں انکار کرتے ہو جسے ہم نے تورات کی طرح اپنے رسول محمد پر نازل کیا ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت