فهرس الكتاب

الصفحة 5660 من 6343

(10) اللہ تعالیٰ نے انسان کی تخلیق بے غرض و غایت نہیں کی ہے اس نے اسے اپنی طاعت و بندگی کے لئے پیدا کیا ہے، اس لئے وہ یہ نہ سمجھے کہ اسے اس دنیا میں جانوروں کی طرح آزاد چھوڑ دیا گیا ہے، بلکہ اللہ نے اسے اوامرو نواہی کا مکلف بنایا ہے اور قیامت کے دن اس سے پوچھا جائے گا، اور اچھے یا برے اعمال کے مطابق اسے جزا یا سزا دی جائے گی۔

آدمی اگر اپنی تخلیق کی ابتدا پر غور کرے تو ایمان لے آئے کہ باری تعالیٰ یقیناً اسے دوبارہ پیدا کرنے پر قادر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اسے خوب معلوم ہے کہ وہ منی کا ایک حقیر قطرہ تھا جسے اس کے باپ کی پیٹھ سے نکال کر اس کی ماں کے رحم میں ٹپکایا گیا، پھر کچھ دنوں کے بعد وہ قطرہ منی خون بن گیا، پھر اللہ تعالیٰ نے اسے گوشت کا ایک ٹکڑا بنایا اور اعضاء و جوارح بنا کر اس ٹکڑے میں جان ڈال دی، پھر سا قطرہ منی سے پیدا کردہ انسانوں کو اللہ نے (مرد و زن) دو قسم کے انسان بنائے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے بنی نوع انسان ! جو اللہ قطرہ منی کو مختلف مدارج و مراحل سے گذار کر تمہیں پیدا کرنے پر قادر ہے، کیا وہ مردوں کو زندہ کرنے پر قادر نہیں ہے؟ وہ یقیناً اس پر قادر ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ وباللہ التوفیق

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت