فهرس الكتاب

الصفحة 1783 من 6343

(16) قیامت کے دن جب مجرمین میدان محشر میں جمع ہوں گے تو آپس میں خوب جھگڑیں گے اور ایک دوسرے سے اعلان برات کریں گے، دنیا میں جو مجرمین کمزور تھے اور اپنے سرداروں اور مالداروں کی پیروی کرتے ہوئے اللہ کے دین کا انکار کردیا تھا، وہ ان سرداروں سے کہیں گے کہ ہم دنیا میں تمہاری بات مانتے رہے تھے، تو کیا آج ہمارا عذاب کچھ ہلکا کرسکتے ہو؟ تو وہ کہیں گے کہ اگر اللہ نے ہمیں ہدایت دی ہوتی تو تمہیں بھی اس راہ پر لے چلے ہوتے، مطلب یہ کہ ہر ایک اپنی بے بسی کا اظہار کرے گا اور عذاب نار کے مزے چکھے گا جس سے چھٹکارا ملنے کی کوئی امید نہ ہوگی۔ (العیاذ باللہ) کافروں کے اسی جزع و فزع کو اللہ تعالیٰ نے سورۃ سبا آیت (31) میں یوں بیان فرمایا ہے: (ولو تری اذا الظالمون موقوفون عند ربھم یرجع بعضھم الی بعض القول یقول الذین استضعفوا للذین استکبروا لو لا انتم لکنا مومنین) یعنی اے دیکھنے والے ! کاش کہ ان ظالموں کو اس وقت دیکھتا جب کہ یہ اپنے رب کے سامنے کھڑے ہوئے ایک دوسرے کو الزام دے رہے ہوں گے، اور ادنی درجے کے لوگ بڑے درجے کے لوگوں سے کہیں گے اگر تم نہ ہوتے تو ہم مسلمان ہوتے، اور سورۃ غافر آیت (47) میں فرمایا ہے: (واذ یتحاجون فی النار فیقول الضعفاء للذین استکبروا انا کنا لکم تبعا فھل انتم مغنون عنا نصیبا من النار) اور جبکہ دوزخ میں ایک دوسرے سے جھگڑیں گے تو کمزور لوگ تکبر کرنے والوں سے، جن کے یہ تابع تھے کہیں گے کہ ہم تو تمہارے پیروکار تھے، تو کیا اب تم ہم سے اس آگ کا کوئی حصہ ہٹا سکتے ہو؟ مذکورہ بالا آیات کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ مجرمین محشر میں جہنم میں جانے سے پہلے آپس میں جھگڑیں گے اور جہنم میں جانے کے بعد بھی۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت