(48) بخاری و مسلم نے اس آیت کے شان نزول میں خباب بن الارت سے روایت کی ہے کہ میں لوہار کا کام کرتا تھا، اور العاص بن وائل کے ذمہ میرا قرض تھا، میں نے مطالبہ کیا تو اس نے کہا، اللہ کی قسم ! جب تک تم محمد کی نبوت کا انکار نہیں کرو گے، تمہارے پیسے نہیں دوں گا۔ تو میں نے کہا اللہ کی قسم ! میں اس دن تک محمد کی نبوت کا انکار نہیں کروں گا جب تم دوبارہ اٹھائے جاؤ گے، تو اس نے کہا، میں جب مر کر دوبارہ اٹھایا جاؤں گا اور میرے پاس مال اور اولاد ہوگی تو آنا، تمہارے پیسے ادا کردوں گا، اس وقت یہ آیت نازل ہوئی کہ کیا اسے غیب کی خبر ہے کہ قیامت کے دن اس کے پاس مال اور اولاد ہوگی، یا اس نے اللہ سے کوئی عہد و پیمان لے رکھا ہے؟ ہرگز نہیں، ایسی کوئی بات نہیں ہے، ہم اس کی زبان درازی اور کذب بیان کو لکھ رہے ہیں اور قیامت کے دن اس کے سبب اس کے عذاب میں اضافہ کردیں گے، اور موت کے ذریعہ اس سے تمام دنیاوی مال و متاع اور اولاد چھین لیں گے، اور وہ میدان محشر میں تنہا اور خالی ہاتھ آئے گا، کچھ بھی اس کے پاس نہیں ہوگا۔