فهرس الكتاب

الصفحة 6115 من 6343

(3) (لقد خلقنا الانسان فی کبد) گزشتہ قسم کا جواب قسم ہے اور مفہوم یہ ہے کہ جب سے آدمی بصورت حمل اپنی ماں کے پیٹ میں قرار پاتا ہے، مختلف قسم کی تکلیفیں اٹھاتا رہتا ہے، پیدائش کے بعد دنیا میں، پھر برزخ میں پھر یوم حساب اس لئے عقل و ہوش کا تقاضا یہ ہے کہ وہ دنیا کی زندگی میں ایسا نیک عمل کرے جس کے ذریعہ آخرت میں اس کے لئے ان شدائد کا خاتمہ ہوجائے اور دائمی فرحت و شادمانی والی جنت میں جگہ مل جائے۔ دوسرا مفہوم یہ بیان کیا گیا ہے کہ ہم نے آدمی کو بہت ہی اچھی شکل و ہیئیت میں بنایا ہے اور اسے ہاتھ پاؤں اور دیگر جسمانی اعضاء کو حرکت دینے کی پوری صلاحیت دی ہے اور مشکل ترین کاموں کو انجام دینے کی اسے قدرت دی ہے، ان نعمتوں کا تقاضا یہ تھا کہ وہ اللہ کا شکر گذار بندہ بنتالیکن اس کے برعکس وہ کبر و غرور اور اس غلط فہمی میں مبتلا ہوگیا کہ اب وہ ہمیشہ ایک حال پر باقی رہے گا۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا: (ایحسب ان لن یقدر علیہ احد) یعنی وہ اپنے دل کی بیماری اور اس کی قساوت کی وجہ سے سمجھنے لگا کہ قیامت نہیں آئے گی اور کوئی ذات اسے مغلوب کرنے پر قادر نہیں ہے اور بطور فخر و مباہات لوگوں سے کہنے لگا کہ میں نے تو اپنی شہوتوں کی تسکین پر لاکھوں اور کروڑوں خرچ کردیا ہے اور وہ یہ بھی گمان کر بیٹھا کہ اللہ اسے نہیں دیکھ رہا ہے اور ہر چھوٹے اور بڑے گناہ پر اس کا محاسبہ نہیں کرے گا۔

یہ اس کی خام خیالی ہے، قیامت ضرور آئے گی اور رب ذوالجلال ہر چیز پر غالب ہے، اسے کوئی مغلوب نہیں کرسکتا، وہ قیامت کے دن اس کے ایک ایک عمل کا حساب لے گا اور جس دولت کو اپنی شہوتوں کی تسکین کے لئے پانی کی طرح بہا تا تھا اس پر ضرور اس کا مواخذہ کرے گا اس دن کوئی بھی اس سے راہ فرار نہیں اختیار کرسکے گا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت