فهرس الكتاب

الصفحة 2923 من 6343

21۔ اس آیت کریمہ سے آیت 50 تک توحید باری تعالیٰ کے پانچ دلائل بیان کیے گئے ہیں، جن میں سے ہر دلیل اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ صرف اسی کی عبادت کی جائے۔

پہلی دلیل سایہ ہے، جو غروب آفتاب سے طلوعِ آفتاب تک پایا جاتا ہے، اس مدت میں اللہ تعالیٰ اپنی قدرت سے سائے کو پوری کائنات پر پھیلا دیتا ہے، پھر جب آفتاب طلوع ہوتا ہے تو وہ سایہ آہستہ آہستہ سمٹنے لگتا ہے۔ اگر اللہ چاہتا تو اسے ساکن و ثابت بنا دیتا، لیکن اللہ اپنے بندوں کی مصلحت کے مطابق اسے سمیٹتا جاتا ہے، یہاں تک کہ دن چڑھ آتا ہے، اور کچھ دیر کے بعد آفتاب مغرب کی طرف مائل ہونے لگتا ہے اور آہستہ آہستہ سایہ دوبارہ پھیلنے لگتا ہے، تاکہ دن کے مکتلف حصے اور نمازوں کے اوقات جانے جائیں، یہاں تک کہ آفتاب غروب ہوجاتا ہے اور رات کی تاریکی آجاتی ہے۔ سائے کا اس طرح شام کے وقت بتدریج پھیلنا، اور صبح کے وقت بتدریج اس کا سمٹنا، اور بندوں کے بہت سے مصالح و منافع کا اس سے متلعق ہونا، اللہ کی قدرت، علم و حکمت اور بندون کے لیے اس کی رحمت عام کی دلیل ہے۔

دوسری دلیل رات اور دن ہے، اللہ تالیٰ نے رات کو لباس کے مانند پردہ کرنے والا اور نیند کو انسانی جسم کے لیے راحت کا ذریعہ بنایا ہے، اور دن کے وقت آدمی روزی حاصل کرنے کے لیے زمین میں پھیل جاتا ہے۔

تیسری دلیل۔ ہوا ہے، جس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ بادلوں میں پانی بھر دیتا ہے، جو ردہ زمین کو زندہ کردیتا ہے۔ سورۃ الاعراف آیت 57 میں اس آیت کی تفسیر گذر چکی ہے

چوتھی دلیل: بارش کا پانی ہے جو میٹھا اور پاک کرنے والا ہوتا ہے، اسے انسان اور حیوانات پیتے ہیں، اور لوگ اس کے ذریعہ طہارت اور پاکیزگی حاصل کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے پانی کو پیدا کیا، اسے بارش کی شکل میں زمین پر برسایا، انسانوں اور حیوانات کے اجسام کو اس کا محتاج بنایا، اور پھر انہٰں اس کا پینا اور استعمال کرنا سکھایا، یہ ساری باتیں اس کے رب ہونے کی دلیل ہیں۔

یہ آیت اور سورۃ الانفال کی آیت 11 و ینزل علیکم من السماء ماء الیطہرکم بہ دلیل ہے کہ پانی کو اللہ نے پاک کرنے والا بنایا ہے، نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ بے شک پانی پاک ہے اسے کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی ہے (ابو داود، نسائی، ترمذی اور ابن ماجہ)

پانچویں دلیل۔ بارش کے پانی میں اللہ کا تصرف ہے کہ کبھی ایک علاقے میں بارش ہوتی ہے اور دوسرا علاقہ خشک رہتا ہے۔ اللہ اپنی حکمت کے تقاضوں کے مطابق اسے جہاں چاہتا ہے بھیجتا ہے، اور جہاں سے چاہتا ہے، اسے روک لیتا ہے، اس کی مرضی میں کوئی دخل نہیں دے سکتا۔

بہت سے مفسرین کے نزدیک صرفنا سے مراد وہ تمام نشانیاں ہیں جن کا اوپر ذکر ہوا ہے۔ یعنی اللہ نے سایہ، بادل اور بارش کو قرآن اور دیگر آسمانی کتابوں میں بار بار اس لیے ذکر کیا ہے تاکہ لوگ ان میں غور و فکر کر کے اللہ کی توحید ربوبیت کے قائل ہوں، اور اس کے ساتھ عبادت میں کسی کو شریک نہ کریں۔

آیت 50 کے آخر میں اللہ نے فرمایا کہ انسان، اللہ کی ان تمام نعمتوں سے مستفید ہوتا ہے، لیکن ان میں اکثر و بیشتر لوگ اس کے شکر گذار نہیں ہوتے ہیں، اور اسے چھوڑ کر دوسروں کی عبادت کرنے لگتے ہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت