14 اللہ تعالیٰ نے پہلے قوم سبا کو دی گئی اپنی نعمتوں کا ذکر کیا، پھر کفران نعمت کی وجہ سے انہیں جو پریشانیاں لاق ہوئیں ان کا بیان ہوا اب ان نعمتوں کا ذکر ہو رہا ہے جو انہیں اس زمانے میں اپنے علاقے سے باہر حاصل تھیں، ان کی بستیوں اور ملک شام کے درمیان شہروں اور بستیوں کا ایک سلسلہ قائم تھا اور ہر دو بستی کے درمیان کی مسافت آدھے دن کی تھی، جب وہ لوگ تجارت کے لئے مارب سے ملک شام کے لئے روانہ ہوتے تو رات ایک بستی میں گذارتے اور دوپہر دوسری بستی میں اور جہاں جاتے کھانے پینے کی ہر چیز انہیں فراوانی کے ساتھ ملتی تھی۔ اس طرح چار ماہ کی مسافت پورے امن و راحت کے ساتھ کھاتے پیتے طے کرتے تھے اور اپنے ساتھ زاد راہ نہیں ڈھوتے تھے کہتے ہیں کہ ان دنوں یمن و شام کے درمیان شہروں کی تعداد چار ہزار سات سو تھی۔
لیکن انہیں یہ نعمتیں بھی راس نہیں آئیں اور امن و عافیت کی قدر کرنا بھول گئے اور کبرو غرور میں آ کر کہنے لگے کہ یہ بھی کوئی سفر ہے کہ ہر تھوڑی مسافت کے بعد بستی پائی جاتی ہے، مزا تو جب آٹا کہ چٹیل میدانوں، جنگلات اور پر خطر وادیوں سے گذر ہوتا اللہ تعالیٰ کو ان کا اترانا پسند نہیں آیا اور ان بستیوں کو خرابات میں بدل دیا اور ان کی تاریخ لوگوں کے لئے کہانیاں بن گئیں جنہیں دنیا والے سن کر حیرت کرتے ہیں کہ کس طرح اللہ نے ان کے عیش و آرام کو سختی و تنگی میں اور ان کی جمعیت و وحدت کو انتشار و پریشانی میں بدل دیا، یہاں تک کہ وہ عربوں کے لئے ضرب المثل بن گئے کہ جب انہیں کسی قوم کے انتشار و افتراق کا حال بیان کرنا ہوتا ہے تو کہتے ہیں: ایسا بکھر گئے جیسے قوم سبا کی جماعت بکھر گئی، ان میں سے اوس و خزرج والے یثرب (مدینتہ الرسول) غسان کے لوگ شام، ازدوالے عمان اور خزاعہ کے لوگ تہامہ پہنچ گئے اور اس طرح پوری قوم سباتتر بتر ہوگئی اللہ تعالیٰ نے آیت کے آخر میں فرمایا کہ ان ساری تفصیلات میں اللہ کے صبر کرنے والے اور شکر کرنے والے بندوں کے لئے بہت ساری عبرت و نصیحت کی باتیں ہیں۔