(30) مذکورہ بالا مضمون کی تائید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہی آسمان و زمین کی ہر چیز کا مالک ہے، اور ہر حال میں اور ہر وقت اسی کی طاعت و بندگی واجب ہے، ور اس کے علاوہ کسی سے ڈرنا اس کی وحدانیت، خالقیت اور رازقیت پر ایمان لانے کے منافی ہے، نیز فرامیا کہ تم لوگ اللہ کے سوا غیروں سے ڈرتے ہو، حالانکہ تمہارے پاس جتنی نعمتیں ہیں وہ تمام کی تمام اللہ کی دی ہوئی ہیں اور جب تمہیں کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اسی کی جناب میں گریہ و زاری کرتے ہو، اس لیے کہ تم جانتے ہو کہ اس کے علاوہ کوئی اسے دور نہیں کرسکتا اور تمہارے حال پر رحم کھاتے ہوئے جب وہ اس تکلیف کو دور کدیتا ہے تو تم میں سے کچھ لوگ اس کے ساتھ غیروں کو شریک بنانے لگتے ہیں اور کہنے لگتے ہیں کہ یہ ہمارے معبودوں کا کرشمہ ہے، انہی کی بدولت ہماری یہ تکلیف دور ہوئی ہے، اور اس طرح وہ اللہ کی نعمتوں کا انکار کر بیٹھتے ہیں اور کفر و عناد میں مبتلا ہوجاتے ہیں، ایسے لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے دھمکی دی ہے وار کہا کہ کچھ دنوں کے لیے مزے اڑا لو، عنقریب قیامت کے دن تمہیں اپنے انجام اور ٹھکانے کا پتہ چل جائے گا۔