فهرس الكتاب

الصفحة 2616 من 6343

(1) اللہ تعالیٰ نے اس سورت کی ابتدا میں عام انسانوں کو مخاطب کر کے فرمایا ہے کہ تم لوگ اپنے رب سے ڈرتے ہوئے زندگی گزارو، عمل صالح کرو اور برائیوں سے بچو، اس لیے کہ قیامت کا زلزلہ حادثہ عظیم ہوگا اور وہ اتنا دہشت ناک ہوگا کہ مارے خوف کے مائیں اپنے بچوں کو دودھ پلانا بھول جائیں گی، حاملہ عورتوں کے حمل ساقط ہوجائیں گے اور ہر آدمی اپنا ہوش کھو بیٹھے گا اور ایسا معلوم ہوگا کہ جسے سب نے کوئی مدہوش کن چیز پی لی ہے، حالانکہ ایسی بات نہیں ہوگی، بلکہ شدت عذاب الہی کے تصور سے ان پر یہ کیفی طاری ہوگی۔

آیت (1) میں جس زلزلہ کا ذکر ہے وہ کب واقع ہوگا اس بارے میں مفسرین کی دو رائیں ہیں۔ پہلی رائے یہ ہے کہ یہ زلزلہ قیامت کی قریب ترین ایک نشانی ہے، یعنی قیامت سے پہلے دنیا کی زندگی میں واقع ہوگی، اس زلزلہ کے بعد آفتاب مغرب سے طلوع ہونے لگے گا، پہاڑ ریزے بن کر اڑنے لگیں گے زمین پر ایسا رعشہ طاری وہگا کہ کوئی چیز اپنی جگہ پر باقی نہیں رہے گی، مائیں اپنے بچوں کو بھول جائیں گی، حاملہ عورتوں کے حمل گر جائیں گے اور بچے بوڑھے ہوجائیں گے، یہ دراصل اللہ کا ایک عذاب ہوگا جس میں وہ اپنی بدترین مخلوق کو مبتلا کرے گا۔

دوسری رائے یہ ہے کہ اس سے مراد وہ خوف و ہراس اور اضطراب و پریشانی ہے جو قیامت کے دن لوگوں کو قبروں سے نکلنے کے بعد میدان محشر میں لاحق ہوگی، ابن جریر نے اسی رائے کو ترجیح دی ہے اور اس کی تائید میں کئی احادیث پیش کی ہے، ان میں سے ایک حدیث امام بخاری نے اس آیت کی تفسیر کے ضمن میں روایت کی ہے کہ اس دن مارے خوف و دہشت کے حاملہ عورتوں کے حمل گر جائیں گے، اور بچے بوڑھے ہوجائیں گے، اور پھر آپ نے (تری ولناس سکارای وماھم بسکاری ولکن عذاب اللہ شدید) پڑھی۔

اکثر مفسرین نے پہلی رائے کو ترجیح دی ہے لیکن چونکہ بعض وہ حدیثیں بھی صحیح ہیں جن میں وقوع قیامت کے بعد کے حالات بیان کیے گئے ہیں اور ان میں بتایا گیا ہے کہ اس دن حاملہ کا حمل گر جائے گا اس لیے بعض مفسرین کا خیال ہے کہ اگرچہ اس آیت میں وہی زلزلہ مراد ہے جو قیامت آنے سے پہلے واقع ہوگا، لیکن اسی کے مشابہ حالات میدان محشر میں بھی واقع ہوں گے جب ہر آدمی غایت درجہ اضطراب و پریشانی میں ہوگا، اور مارے رعب و دہشت کے سب کی حالت ویسی ہوگی جیسی حالت میں حاملہ شدت خوف سے قبل از وقت اپنا حمل ساقط کردیتی ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت