فهرس الكتاب

الصفحة 3359 من 6343

(43) اللہ تعالیٰ نے قارون کو اس کے کفر اور کبر غرور کی وجہ سے اس کے گھر بار کے ساتھ زمین میں دھنسا دیا اس وقت اللہ کے مقابلے میں کوئی گروہ اس کی مدد کے لیے نہیں آیا اور نہ وہ خود اپنی مدد آپ کرسکا امام بخاری نے سالم سے اور انہوں نے اپنے باپ سے روایت کی ہے نبی کریم نے فرمایا ایک آدمی کبر کی وجہ سے اپنی چادر زمین پر گھسیٹ رہا تھا تو اللہ تعالیٰ نے اسے زمین میں دھنسا دیا وہ قیامت تک زمین میں دھنستا چلاجائے گا۔ جن لوگوں نے قارون کی تزک واحتشام دیکھ کر اس جیسی دولت کی تمنا کی تھی جب انہوں نے اسے اس کے گھربار کے ساتھ زمین میں دھنستے دیکھا تو اپنی تمنا پر نادم ہوئے اور کہنے لگے کہ اب ہمیں معلوم ہوگیا کہ اللہ اپنی حکمت ومشیت کے مطابق لوگوں میں روزی تقسیم کرتا ہے کسی کو خوب روزی دیتا ہے اور کسی پر اس کے دروازے تنگ کردیتا ہے روزی میں وسعت اور تنگی نیک بختی، یابدبختی کی دلیل نہیں ہے ورنہ آج قارون اپنے مال واسباب کے ساتھ زمین میں دھنسا نہ دیا جاتا اگر اللہ کا ہم پر احسان نہ ہوتا، اور ہم بھی قارون کی طرح کبر وغرور میں مبتلا ہوتے تو ہمیں بھی اسی کی طرح زمین میں دھنسا دیا جاتا ہمیں یہ بھی معلوم ہوگیا تھا کہ جو لوگ اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کی ناشکری کرتے ہیں کبر وغرور میں مبتلا ہوجاتے ہیں اور اللہ کے دین اور اس کے رسول کا انکار کرتے ہیں دنیاوآخرت میں نامرادی ان کی قسمت بن جاتی ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت